اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے علی الطاہر میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب ایک خودکش ڈرون بھیجا گیا۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے اس ڈرون حملے کا الزام حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شمالی محاذ کے کمانڈر راوی میلو نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈرون حملے کے واقعے کو خفیہ رکھا اور فوجی حکام کی درخواست پر فوجی سرگرمیوں سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی جائیں گی۔
اسرائیلی فوج کے ریڈیو کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فوج زمینی صورتحال اور معروضی جائزوں کی بنیاد پر معلومات عوام کے سامنے لاتی ہے، تاہم ایسی معلومات جاری نہیں کی جائیں گی جن سے فوجی جائزے کے مطابق آپریشنل علاقوں میں موجود اسرائیلی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے حولا اور میس الجبل کے علاقوں میں بھی دھماکے کیے۔
اسرائیلی فوج کے توپ خانے نے المنصوری کے علاقے اور علی الطاہر کی پہاڑی کو نشانہ بنایا، جبکہ اسرائیلی فوج نے علی الطاہر کے علاقے میں مشین گنوں سے فائرنگ کرتے ہوئے ’’کلیئرنس‘‘ آپریشن بھی کیا۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور علاقے کے بعض حصوں پر قبضہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
آپ کا تبصرہ